سرسی، 19 / اپریل (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا کے ٹھیکیداروں کی انجمن کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر سرکاری منصوبہ جات کے سلسلے میں مختلف محکمہ جات پر واجب الادا 2.50 کروڑ روپے 30 اپریل تک ٹھیکیداروں کو ادا نہیں کیے گئے تو ضلع میں جاری تمام سرکاری تعمیراتی کام روک دئے جائیں گے اور الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔
شہر کے پریس کلب میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوِل کنٹراکٹرس ایسوسی ایشن کے ضلع صدر رامناتھ شانبھاگ نے کہا کہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی ، ضلع پنچایت اور محکمہ چھوٹی آب پاشی کی طرف سے کنٹراکٹرس کو 2.50 روپوں کے بلس باقی ہیں ۔ متعلقہ افسران کے پاس اپیل کرنے کے باوجود رقم ادا نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس کی وجہ سے ٹھیکیداروں نے جو قرضہ لیا ہے اس پر سود کی رقم بڑھتی جا رہی ہے اور وہ سود ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ 30 اپریل سے پہلے ٹھیکیداروں کے بقایا جات ادا کیے جائیں ، بصورت دیگر تمام تعمیراتی کام روک دئے جائیں گے اور الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔
ایسو سی ایشن کے لیڈر شیام سندر بھٹ نے ندی سے ریت نکالنے پر لگی پابندی اور اس سے تعمیراتی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ضلع کے ترقیاتی منصوبوں اور عوام کو درپیش مسائل سامنے رکھتے ہوئے ریت نکالنے کے لئے ٹھیکیداری کی نیلامی جلد از جلد کی جائے ۔
پریس کانفرنس میں ایک مطالبہ یہ بھی کیا گیا کہ ضلع کے تعمیراتی پروجیکٹس کا ٹھیکہ غیر معیاری تعمیراتی کام کے لئے بدنام کرناٹکا رورل انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ لمیٹڈ اور نیرمیتی کیندرا نامی اداروں کو نہ دیا جائے کیونکہ ان دونوں اداروں کے پاس مطلوبہ مقدار میں مین فورس اور مشینری وغیرہ موجود نہیں ہے ۔ اس کے بجائے یہ رجسٹرڈ کنٹراکٹرس کو ہی ٹینڈر کے ذریعے ٹھیکے دئے جائیں ۔
ٹھیکیداروں کی ایسو سی ایشن کے نائب صدر نے ایک اور مسئلہ کی طرف توجہ مبذول کرتے ہوئے کہا کہ ورکس کنٹراکٹ کے بلس پر اب تک 12 فیصد جی ایس ٹی لگتا تھا ۔ لیکن 17 اپریل کے اعلامیہ کے مطابق اب یہ ٹیکس 18 فیصد رہے گا ۔ لہٰذا پچھلے بلس جو باقی ہیں ، اس پر بھی نئے قانون کے مطابق 18 فیصد جی ایس ٹی کٹنے والا ہے جو کہ ٹھیکیدار کے لئے خسارہ کا سودا ہے ۔ اس لئے متعلقہ محکمہ جات کو بقایا بلس میں 18 فیصد کے حساب سے جی ایس ٹی شامل کرکے ادائیگی کرنا ہوگا ۔